×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

وہ سیہ کار وہ بدکار ہمارے کب تھے

وہ سیہ کار وہ بدکار ہمارے کب تھے
خاک میں مل جو رہے تھے وہ ستارے کب تھے

تیری بخشش ہے عنایت ہے کرم ہے ظالم
ورنہ ہر سمت یہ تاراج نظارے کب تھے

ایک کوشش تھی گریبان تلک جا پہنچیں
ہاتھ کاٹے جو گئے ہم نے پسارے کب تھے

ہم کو محفل سے اٹھانے کو اٹھا درد جگر
ورنہ ہم خاک نشیں خاک کے مارے کب تھے

شہر کی ساری دکانوں میں اسی کو دیکھا
اس توجہ سے مگر ہم بھی نہارے کب تھے

بات نکلی تو کہا ہم نے عبادیؔ بڑھ کر
خواب رسوا جو ہوئے خواب تمہارے کب تھے


...
0:00
0:00
0:00