وہ سیہ کار وہ بدکار ہمارے کب تھے
وہ سیہ کار وہ بدکار ہمارے کب تھے
خاک میں مل جو رہے تھے وہ ستارے کب تھے
تیری بخشش ہے عنایت ہے کرم ہے ظالم
ورنہ ہر سمت یہ تاراج نظارے کب تھے
ایک کوشش تھی گریبان تلک جا پہنچیں
ہاتھ کاٹے جو گئے ہم نے پسارے کب تھے
ہم کو محفل سے اٹھانے کو اٹھا درد جگر
ورنہ ہم خاک نشیں خاک کے مارے کب تھے
شہر کی ساری دکانوں میں اسی کو دیکھا
اس توجہ سے مگر ہم بھی نہارے کب تھے
بات نکلی تو کہا ہم نے عبادیؔ بڑھ کر
خواب رسوا جو ہوئے خواب تمہارے کب تھے
Join the conversation