×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

کچھ نہ تھی بیگم موئے انسان کی بنیاد بھی

کچھ نہ تھی بیگم موئے انسان کی بنیاد بھی
اس جنم میں ہو رہی ہے اس جنم کی یاد بھی

دین سے اللہ کی دولت بھی ہے اولاد بھی
اب انہیں کیا چاہئے بہویں بھی ہیں داماد بھی

ساس نندوں سے عداوت ان سے الفت ہے مجھے
شاد بھی سسرال میں ہوں اور میں ناشاد بھی

جیٹھ کا منہ دیکھتی ہوں کرتی ہوں بیٹی کا پاس
یہ بھتیجا بھی ہے میرا بیبیو داماد بھی

کیوں نہ کوسوں دور بھاگوں تیری صحبت سے موئے
کھاج میں بھی تو لدا ہے ہو گیا ہے داد بھی

سوت کے آگے ہے بکری اور میرے حق میں شیر
نرم دل بھی لوگ کہتے ہیں اسے جلاد بھی

لال پیلے مجھ پہ مت ہو تم بٹاؤ اپنا خون
جونک والی بھی یہیں موجود ہے فصاد بھی

ہائے کیسا ہو گیا ہے خون دنیا کا سفید
جونک والی بھی نہ آئی مر گیا فصاد بھی

آج ثابت ہو گیا شیداؔ تمہاری ریختی
اک پرانی چیز بھی ہے اک نئی ایجاد بھی


...
0:00
0:00
0:00