کچھ نہ تھی بیگم موئے انسان کی بنیاد بھی
کچھ نہ تھی بیگم موئے انسان کی بنیاد بھی
اس جنم میں ہو رہی ہے اس جنم کی یاد بھی
دین سے اللہ کی دولت بھی ہے اولاد بھی
اب انہیں کیا چاہئے بہویں بھی ہیں داماد بھی
ساس نندوں سے عداوت ان سے الفت ہے مجھے
شاد بھی سسرال میں ہوں اور میں ناشاد بھی
جیٹھ کا منہ دیکھتی ہوں کرتی ہوں بیٹی کا پاس
یہ بھتیجا بھی ہے میرا بیبیو داماد بھی
کیوں نہ کوسوں دور بھاگوں تیری صحبت سے موئے
کھاج میں بھی تو لدا ہے ہو گیا ہے داد بھی
سوت کے آگے ہے بکری اور میرے حق میں شیر
نرم دل بھی لوگ کہتے ہیں اسے جلاد بھی
لال پیلے مجھ پہ مت ہو تم بٹاؤ اپنا خون
جونک والی بھی یہیں موجود ہے فصاد بھی
ہائے کیسا ہو گیا ہے خون دنیا کا سفید
جونک والی بھی نہ آئی مر گیا فصاد بھی
آج ثابت ہو گیا شیداؔ تمہاری ریختی
اک پرانی چیز بھی ہے اک نئی ایجاد بھی
Join the conversation