×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

میں بزم کی متحیر سماع کر دوں کیا

میں بزم کی متحیر سماع کر دوں کیا
غزل کی صنف میں کچھ اختراع کر دوں کیا

بغیر اس کے بھی زندہ ہوں اور مزے میں ہوں
بچھڑنے والے کو یہ اطلاع کر دوں کیا

مجھے پسند نہیں ازدحام لوگوں کا
یہ منکشف میں سر اجتماع کر دوں کیا

مجھے تو تم نے ہی برباد کر دیا لیکن
تمہارے حق میں تمہاری دفاع کر دوں کیا

تمہیں پسند نہیں ہے مرا یہ کار سخن
تمام غزلیں کہو نذر جاں کر دوں کیا

اسی سبب تو پریشان حال رہتا ہوں
انا کے زعم کو اعظمؔ وداع کر دوں کیا


...
0:00
0:00
0:00