×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

بلند فکر کی ہر شعر سے عیاں ہو رمق

بلند فکر کی ہر شعر سے عیاں ہو رمق
مرے قلم سے ادا ہو کبھی غزل کا حق

اداس اداس ہیں انساں ہر ایک چہرہ فق
یہ شہر شہر ہے یا دشت ہے یہ لق و دق

میں دل کی بات کہوں یوں کہ دل تلک پہنچے
نہ ہوں کنائے ہی مبہم نہ استعارے ادق

چلو سمیٹ کے آفس کو اپنے گھر کی طرف
افق کے پار وہ دیکھو اتر رہی ہے شفق

ذرا سا علم و ہنر پا گئے تو کچھ کم ظرف
سمجھ رہے ہیں سبھی کو ہی احقرواحمق

پھر احتجاج کے رستے پہ کیوں چلیں گے ہم
ہمیں جو ملتا رہے آپ سے ہمارا حق

تعلقات میں قائم رکھیں بھروسے کو
کہ شک ہمیشہ ہی کرتا رہا ہے رشتے شق

کسی کتاب میں ملتا نہیں ہے ذکر اعظمؔ
ہمیں سکھائے ہیں اس زندگی نے ایسے سبق


...
0:00
0:00
0:00