×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

میری مٹی میں جب نہ تھا پتھر

میری مٹی میں جب نہ تھا پتھر
کیسے کہہ دوں کہ ہے خدا پتھر

شعلۂ عشق کا اثر توبہ
موم جیسا پگھل گیا پتھر

جب بھی بزم خرد میں آیا میں
عقل پر میری پڑ گیا پتھر

گل بچھاؤں میں تیرے قدموں میں
میری راہوں میں تو بچھا پتھر

راہ حق میں یقین تھا ہم پر
صرف برسیں گے اینٹ یا پتھر

لد گیا جب شجر پھلوں سے کوئی
اس پہ سب نے اٹھا دیا پتھر

لوگ توڑیں گے بار بار اسے
شیشۂ دل کو تو بنا پتھر

نرم رسی سے گھس نہ جائے جو
مجھ کو ایسا نہیں ملا پتھر

دوستوں کے ہدف پہ ہے اعظمؔ
اب وہ برسائیں پھول یا پتھر


...
0:00
0:00
0:00