کوئی احساس بھی چہرے پہ کہاں ہوتا ہے
تازہ تخیل
کوئی احساس بھی چہرے پہ کہاں ہوتا ہے
آئینہ دیکھ کے پتھر کا گماں ہوتا ہے
دل میں جو کچھ ہے وہ دکھنے کو خلا چاہتا ہے
جس طرح زیرِ زمیں پانی نہاں ہوتا ہے
چاک پر گھومتی دنیا کے اسیروں کے لیے
یہ محبت کا سفر کارِ زیاں ہوتا ہے
فرصتوں میں کبھی تم بیٹھ کے چہرے پڑھنا
قبر کا حال تو کتبے سے بیاں ہوتا ہے
عشق والے بھی بھلا منہ سے کبھی بولتے ہیں ؟
عشق کا روگ تو حلیے سے عیاں ہوتا ہے
برسرِ شام اگر اخبار میں پڑھنے بیٹھوں
اے خدا اُس میں کوئی اور جہاں ہوتا ہے
دل میں اب جاہ نہیں یادِ صنم کی خاطر
مسجدوں میں بھی کہاں ذکرِ بِتاں ہوتا ہے
قاتلو ! باپ کے دل کا بھی کچھ احساس رہے
جس کا بیٹا بڑی مشکل سے جواں ہوتا ہے
Join the conversation