×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

کوئی احساس بھی چہرے پہ کہاں ہوتا ہے

تازہ تخیل 

کوئی احساس بھی چہرے پہ کہاں ہوتا ہے
آئینہ دیکھ کے پتھر کا گماں ہوتا ہے

دل میں جو کچھ ہے وہ دکھنے کو خلا چاہتا ہے
جس طرح زیرِ زمیں پانی نہاں ہوتا ہے

چاک پر گھومتی دنیا کے اسیروں کے لیے
یہ محبت کا سفر کارِ زیاں ہوتا ہے

فرصتوں میں کبھی تم بیٹھ کے چہرے پڑھنا
قبر کا حال تو کتبے سے بیاں ہوتا ہے

عشق والے بھی بھلا منہ سے کبھی بولتے ہیں ؟
عشق کا روگ تو حلیے سے عیاں ہوتا ہے

برسرِ شام اگر اخبار میں پڑھنے بیٹھوں
اے خدا اُس میں کوئی اور جہاں ہوتا ہے

دل میں اب جاہ نہیں یادِ صنم کی خاطر 
مسجدوں میں بھی کہاں ذکرِ بِتاں ہوتا ہے

قاتلو ! باپ کے دل کا بھی کچھ احساس رہے
جس کا بیٹا بڑی مشکل سے جواں ہوتا ہے
...
0:00
0:00
0:00