طعنہ زن تھا ہر کوئی ہم پر دل ناداں سمیت
طعنہ زن تھا ہر کوئی ہم پر دل ناداں سمیت
ہم نے چھوڑا شہر رسوائی در جاناں سمیت
اس قدر افسردہ خاطر کون محفل سے گیا
ہر کسی کی آنکھ پر نم ہے دل آزاراں سمیت
جشن مقتل تھا بپا اور صرف بسمل تھے ہمیں
ہم نے سوچا تھا کہ دیکھیں گے یہ دن یاراں سمیت
اک فقیہ شہر کو کیا دوش دیجے جب سبھی
میکدے کے دشمنوں میں ہوں قدح خواراں سمیت
یہ رعونت تابکے اے دل فگاراں دیکھنا
اب گرے گا طرۂ سلطاں سر سلطاں سمیت
وہ تو کیا آتے شب ہجراں تو کیا کٹتی فرازؔ
بجھ گئیں آخر کو سب شمعیں چراغ جاں سمیت
Join the conversation