×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

عرض غم کبھی اس کے روبرو بھی ہو جائے

عرض غم کبھی اس کے روبرو بھی ہو جائے
شاعری تو ہوتی ہے گفتگو بھی ہو جائے

زخم ہجر بھرنے سے یاد تو نہیں جاتی
کچھ نشاں تو رہتے ہیں دل رفو بھی ہو جائے

رند ہیں بھرے بیٹھے اور مے کدہ خالی
کیا بنے جو ایسے میں ایک ہو بھی ہو جائے

میں ادھر تن تنہا اور ادھر زمانہ ہے
وائے گر زمانے کے ساتھ تو بھی ہو جائے

دین و دل تو دے بیٹھے اب فرازؔ کیا غم ہے
کوئے یار میں غارت آبرو بھی ہو جائے

پہلی نامرادی کا دکھ کہاں بسرتا ہے
بعد میں اگر کوئی سرخ رو بھی ہو جائے


...
0:00
0:00
0:00