تجھے کیا خبر مرے رازداں مجھے ضابطوں نے شکست دی
تجھے کیا خبر مرے رازداں مجھے ضابطوں نے شکست دی
ترے ہجر نے مجھے آ لیا مرے حوصلوں نے شکست دی
دلِ مضطرب کو گُماں تھا کہ تو پلٹ کے آئے گا ایک دن
کیے رابطے سبھی منقطع ترے فاصلوں نے شکست دی
بڑا دکھ ہوا مرے رازداں تو چلا گیا مجھے چھوڑ کر
نہ اداسیوں سے بنی مری تری ہجرتوں نے شکست دی
تری یاد میں رہا گم شدہ ، کوئی راس آیا نہ ولولہ
رہے بچھڑ جانے کے وسوسے ،مجھے وسوسوں نے شکست دی
نہ تھی راستوں کی کوئی خبر مجھے منزلوں سے گلہ رہا
کبھی اِس نگر کبھی اُس نگر مجھے راستوں نے شکست دی
جو تھیں موسموں کی روانیاں مرے ماس تن کا نگل گئیں
میں بلک بلک کے فنا ہوا مجھے موسموں نے شکست دی
رہے آندھیوں کے یوں سلسلے مرا گھر اڑا کر یہ لے گئے
کوئی بارشوں سے گلہ نہیں مجھے آندھیوں نے شکست دی
جو غزل سنی تو کہا مجھے ، تُو اداس شاموں کا فلسفہ
تری غزل میں جو ملال ہے ، تجھے دوستوں نے شکست دی؟
میں غموں کی لمبی کتاب تھا جو بیان کردہ سراب تھی
مجھے رتجگوں سے لگاؤ تھا انہی خواہشوں نے شکست دی
مرے رازداں تو بھی پڑھ ذرا مری زندگی کی کتاب کو
میں نہ جی سکا ،مری سانس کو تری دوریوں نے شکست دی
شاعر ۔۔ راؤ مُعاذ فَرہَادؔ کرَمپُورِی
Join the conversation