×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

یہ جنگ ہار نہ جائے سپاہ قید میں ہے

یہ جنگ ہار نہ جائے سپاہ قید میں ہے
غلام تخت پہ قابض ہیں شاہ قید میں ہے

پرندے اس لئے زنداں کے گرد گھومتے ہیں
کہ ان کی ڈار کا اک بے گناہ قید میں ہے

ترے حقوق کی کوئی نہیں ضمانت اب
غریب شہر ترا خیر خواہ قید میں ہے

سخن کی ہم کو اجازت نہ حکم دیکھنے کا
قلم اسیر سلاسل نگاہ قید میں ہے

سوال کون اٹھائے گا منصفوں پہ حضور
بری ہوئے سبھی مجرم گواہ قید میں ہے

یہ عرش و فرش کو اک دن ہلائے گی کوملؔ
درون دل جو مری سرد آہ قید میں ہے


...
0:00
0:00
0:00