×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

سرخ آنکھیں ہیں زرد منظر ہے

سرخ آنکھیں ہیں زرد منظر ہے
زندگی ریت کا سمندر ہے

صورت حال پوچھ لو ہم سے
دل ہے غمگین آنکھ بھی تر ہے

کیسے منزل نہ ہو قریب مرے
جب مرا ہی شعور رہبر ہے

میں یہ خود بھی نہیں سمجھ پایا
قرض کس کی نظر کا مجھ پر ہے

میں اندھیروں میں کھو نہیں سکتا
عشق سے دل مرا منور ہے

روبرو آئنے کے مت جانا
ہاتھ میں آئنے کے پتھر ہے

ایک طوفاں ہے اس کی خاموشی
زندگی اس کی اک سمندر ہے

رب سلامت رکھے خودی میری
یہ امارت بھی آج جرجر ہے

جس کا ہوتا نہیں دلوں میں قیام
آدمی وہ ادیبؔ بے گھر ہے


...
0:00
0:00
0:00