×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

کچھ ایسے وصل کی راتیں گزاری ہے میں نے

کچھ ایسے وصل کی راتیں گزاری ہے میں نے
تمام شب تیری صورت نہاری ہے میں نے

ابھی سے سارا سمندر اچھال مارتا ہے
ابھی تو دریا میں کشتی اتاری ہے میں نے

یہ سارے رستے مجھے کھینچنے لگے ہے اب
کچھ اتنا چیخ کے منزل پکاری ہے میں نے

تمام عمر تری جستجو رہی مجھ کو
تمام عمر سفر میں گزاری ہے میں نے

...
0:00
0:00
0:00