×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

اشک پر زور کچھ چلا ہی نہیں

اشک پر زور کچھ چلا ہی نہیں
میں نے روکا بہت رکا ہی نہیں

آتش زیر پا سبب ورنہ
خاک صحرا کی چھانتا ہی نہیں

یا تو سب کا خدا ہی سچا ہے
یا تو سچا کوئی خدا ہی نہیں

ذہن کہتا ہے سر جھکا لے تو
دل مگر ہے کہ مانتا ہی نہیں

بال و پر ہوں قوی تو کیا حاصل
جب اڑانوں کا حوصلہ ہی نہیں

ہائے میں نے پس غلط فہمی
وہ سنا میں نے جو کہا ہی نہیں

موت کا ڈر اسے دکھائیں کیا
زندہ رہنا جو چاہتا ہی نہیں

صرف احساس کمتری ہے تجھے
اور تو ہے کہ مانتا ہی نہیں

میں ہی میں بزم میں رہا موجود
اور میں بزم میں گیا ہی نہیں

میری غیبت میں وہ بھی ہیں شامل
آج تک جن سے میں ملا ہی نہیں

جو کہ پہچان ہو مری اعظمؔ
شعر ایسا کوئی ہوا ہی نہیں


...
0:00
0:00
0:00