دھمال ڈالتے لفظوں میں عاجزانہ کلام
دھمال ڈالتے لفظوں میں عاجزانہ کلام
غزل کے روپ میں لائے قلندرانہ کلام
ہماری روح تلک رقص کرنے لگتی ہے
جب اس کی آنکھ سناتی ہے عارفانہ کلام
یہ خود کلامی حقیقت میں خود کلامی نہیں
کسی کے ساتھ میں کرتا ہوں غائبانہ کلام
ہمیں ملا ہے بزرگوں سے عشق آل رسول
ہمارے خون میں شامل ہے صوفیانہ کلام
دعا پہ اس لئے ہم کو یقین ہے صاحب
جو دل سے نکلے وہ ہوتا ہے معجزانہ کلام
تمھارے حسن پہ میں نے کلام جب بھی کیا
مرے کلام پہ کرنے لگا زمانہ کلام
کسی کے ہونٹوں پہ آنے کی دیر تھی شہبازؔ
کہ تازہ لگنے لگا ہے مرا پرانا کلام
Join the conversation