×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

دھمال ڈالتے لفظوں میں عاجزانہ کلام

دھمال ڈالتے لفظوں میں عاجزانہ کلام
غزل کے روپ میں لائے قلندرانہ کلام

ہماری روح تلک رقص کرنے لگتی ہے
جب اس کی آنکھ سناتی ہے عارفانہ کلام

یہ خود کلامی حقیقت میں خود کلامی نہیں
کسی کے ساتھ میں کرتا ہوں غائبانہ کلام

ہمیں ملا ہے بزرگوں سے عشق آل رسول
ہمارے خون میں شامل ہے صوفیانہ کلام

دعا پہ اس لئے ہم کو یقین ہے صاحب
جو دل سے نکلے وہ ہوتا ہے معجزانہ کلام

تمھارے حسن پہ میں نے کلام جب بھی کیا
مرے کلام پہ کرنے لگا زمانہ کلام

کسی کے ہونٹوں پہ آنے کی دیر تھی شہبازؔ
کہ تازہ لگنے لگا ہے مرا پرانا کلام


...
0:00
0:00
0:00