×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

خدا بھی جانتا ہے خوب جو مکار بیٹھے ہیں

خدا بھی جانتا ہے خوب جو مکار بیٹھے ہیں
حرم میں سرنگوں کچھ قابل فی النار بیٹھے ہیں

گھروں میں ساتھ بیٹھے ہیں سر بازار بیٹھے ہیں
نقاب اپنوں کا اوڑھے آج کل اغیار بیٹھے ہیں

محبت کی نظر میں جیت لی ہے ہم نے وہ بازی
زمانے کی نظر میں ہم کہ جس کو ہار بیٹھے ہیں

خطا ہو جائے ہم سے جو کوئی تو درگزر کرنا
تمہاری بزم میں ہم آج پہلی بار بیٹھے ہیں

زمیں سے یا فلک سے یا کہ اپنوں سے کہ غیروں سے
بتائیں کس طرح کس کس سے ہم بیزار بیٹھے ہیں

ادب کی محفلوں میں اب کہاں جم غفیر اعظمؔ
یہاں دو چار بیٹھے ہیں وہاں دو چار بیٹھے ہیں

یہی جمہوریت کا نقص ہے جو تخت شاہی پر
کبھی مکار بیٹھے ہیں کبھی غدار بیٹھے ہیں


...
0:00
0:00
0:00