یہ کیا کہ فصل بہار میں بھی خزاں رسیدہ گلاب رکھنا
یہ کیا کہ فصل بہار میں بھی خزاں رسیدہ گلاب رکھنا
گلوں سے خوشبو چرا کے اُس پر کلی کلی کا حساب رکھنا
بزرگ پیڑوں کو بھی گلہ ہے، نجانے کس کا یہ فیصلہ ہے
چمن کے نغمہ سرا پرندے قفس میں زیرِ عتاب رکھنا
ہوا کی عادت بنی ہوئی ہے یہ روشنی کی مخالفت میں
جہاں چراغوں کی لو جواں ہو وہیں کا موسم خراب رکھنا
میں حق بجانب ڈٹا ہوا ہوں خدائے علم و بیان مجھ کو
ہزار چبھتے ہوئے سوالوں کی زد میں حاضر جواب رکھنا
ہٹا کے صحرا نورد چہروں سے خاک صدیوں کی مسکرانا
چھپا کے روہی مثال آنکھوں میں آنسوؤں کے چناب رکھنا
یہ کیا سیاست ہے کیا حکومت یہ کیا معیشت ہے کیا اذیت
نہ جن کے پیروں تلے زمیں ہو انہی سروں پہ عذاب رکھنا
ہمارا حاصل کلام یہ ہے ہمارے کرنے کا کام یہ ہے
حزیں دلوں میں امنگ بھرنا اداس آنکھوں میں خواب رکھنا
Join the conversation