×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

کردار داستان سے اٹھ کر چلا گیا

کردار داستان سے اٹھ کر چلا گیا
اک شخص یوں جہان سے اٹھ کر چلا گیا

ہر اک خیال خام ترے پیار کی قسم
یادوں کے درمیان سے اٹھ کر چلا گیا

کچھ تو خلا میں خاص ہے تارہ یہ سوچ کر
ٹوٹا اور آسمان سے اٹھ کر چلا گیا

اس کے بھی سر پہ دھوپ کی اک آگ تھی لگی
یوں میں تو سائبان سے اٹھ کر چلا گیا

اس کو نہ واپسی کا کبھی راستہ ملا
جو لفظ بھی زبان سے اٹھ کر چلا گیا

آدم کسی کے واسطے جنت کو چھوڑ کر
مسعودؔ کتنی شان سے اٹھ کر چلا گیا


...
0:00
0:00
0:00