×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

پھول کھلتے رہے عمر بھر گھاس پر

پھول کھلتے رہے عمر بھر گھاس پر  

رنگ و بو کا رہا ہے گزر گھاس پر  


دھوپ دیوار و در پر کھڑی تھی مگر  

سایہ لایا ہے اپنا شجر گھاس پر  


آسماں سے فرشتے اترتے رہے  

رات ہوتی رہی جلوہ گر گھاس پر  


جب نکالا گیا قصر جنت میں  

تب خدا نے کہا جا اتر گھاس پر  


آدم و حوا جب یاں اتارے گئے  

سب سے پہلے پڑی تھی نظر گھاس پر  


خاک پائے پیمبر لگی جب یہاں  

پھول کھلنے لگے سر بسر گھاس پر  


دشت وحشت میں جب کوئی راستہ نہ تھا  

رہبری کو ملی ایک ڈگر گھاس پر  


کاٹیے نہ اسے ظلم و مت کیجیے  

بیٹھتے ہیں یہاں راہ گزر گھاس پر  


چاندنی تھی وہاں رک کر ٹھہرتی رہی  

ہم بھی بیٹھے رہے رات بھر گھاس پر  


جن کو محلوں کی زینت لبھاتی رہی  

وہ ٹہلتے دکھے پیش و بر گھاس پر  


رزق ہے یہ چرندوں کا میرے حضور  

رکھیے مت جوتیاں کاٹ کر گھاس پر  


یہ نہ کہیں گے کہ رونق ہے باغات کی  

شوق سے رہتے ہیں جانور گھاس پر  


سب پرندے یہاں چہکیں گے پھر  

میں بناؤں گا جب اپنا گھر گھاس پر  


لوگ محلوں میں بے چین جاگتے رہے  

سو گئے جانور بے خطر گھاس پر  


مجھ کو مخمل کی حاجت نہیں ہے میاں  

نیند آتی ہے مجھ کو مگر گھاس پر  


بستیاں سب اجڑ کر دھواں ہو گئیں  

شبنم آلود ہے یہ سحر گھاس پر  


موت آئی تو سب بھول بیٹھے ہیں  

نام لکھا گیا مختصر گھاس پر  


مر کے مٹی میں جب ہم سما جائیں گے  

رقص کرتی رہے گی سحر گھاس پر  


تھک گیا جب میں دنیا کی دیوار سے  

رکھ دیا لا کے اپنا یہ سر گھاس پر  


مرے اشکوں سے بھیگی ہے یہ سر بسر  

کرب دل کا ہوا ہے اثر گھاس پر  


خیر ہو خط کا اب تک نہ آیا جواب  

تھک کے بیٹھا نہ ہو نامہ بر گھاس پر  


کوئی رویا تھا شاید یہاں کرب سے  

آب شبنم ہے کیوں دیدہ تر گھاس پر  


ہے اسی سے ہی شاداب سارا جہاں  

عقل انساں ذرا غور کر گھاس پر  


اذن پرواز جب بھی ملا غیب سے  

کھینچ لاؤں گا شمس و قمر گھاس پر  


زیب جی کوئی مضمون نیا باندھیے  

کوئی لکھیے غزل عمدہ تر گھاس پر

...