کہا دشمن کے نگاہوں میں نمی ہوتی ہیں
کہاں دشمن کی نگاہوں میں نمی ہوتی ہے
خندہ لب پہ فقط خندہ زنی ہوتی ہے
ضبط کی راہ میں ایسی بھی گھڑی ہوتی ہے
آنکھ جب رونے پہ آئے تو ہنسی ہوتی ہے
جب بھی آتے ہیں مجھے یاد وہ گزرے لمحے
شعلہ حسرت نمناک گھڑی ہوتی ہے
میں نے ہر زخم کو لفظوں میں پرویا ایسے
جیسے تسبیح میں دانوں کی لڑی ہوتی ہے
جن کے آنگن میں اترتی نہیں خوشیوں کی کرن
ان کی تقدیر میں بس تیرہ شبی ہوتی ہے
آہ اٹھتی ہے شب ہجراں مگر رہ رہ کر
اشک کی آنکھ سے بھی پہلو تہی ہوتی ہے
صحبت خار میں پلتے ہیں محبت کے گلاب
سایہ ابر پہ بھی دھوپ کڑی ہوتی ہے
وقت کے ساتھ سبھی رنگ بدل جاتے ہیں
دوست داری بھی فقط نام کی ہی ہوتی ہے
تم جو آتے ہو بے نقاب تمہیں کیا معلوم
کسی کے دل کسی کی جاں پہ بنی ہوتی ہے
آئے وہ سامنے تو تاب بصارت نہ رہے
اور دیدار کی حسرت بھی بڑی ہوتی ہے
ساعت وصل میں بھی چین دل و جاں نہ ملا
تیرے ہوتے ہوئے بھی تیری کمی ہوتی ہے
اٹھ کے سینے سے لگاؤ مرا ماتھا چوموں
چارہ گر باتوں سے بھی چارہ گری ہوتی ہے؟
رنج و غم کے کبھی سائے کبھی ارماں کی تپش
زندگی تیری یہی پیش کشی ہوتی ہے
میں نے سینے میں کئی راز چھپائے ایسے
جیسے تصویر میں پوشیدہ صدی ہوتی ہے
رزق کے واسطے مرتا ہوں میں دن بھر لیکن
آئے دن گھر میں مرے فاقہ کشی ہوتی ہے
گھر سے نکلے جو کمانے کے لیے ہم بہزاد
پھر سمجھ آیا کہ کیا در بدری ہوتی ہے
Join the conversation