×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

کہا دشمن کے نگاہوں میں نمی ہوتی ہیں

کہاں دشمن کی نگاہوں میں نمی ہوتی ہے

خندہ لب پہ فقط خندہ زنی ہوتی ہے


ضبط کی راہ میں ایسی بھی گھڑی ہوتی ہے

آنکھ جب رونے پہ آئے تو ہنسی ہوتی ہے


جب بھی آتے ہیں مجھے یاد وہ گزرے لمحے

شعلہ حسرت نمناک گھڑی ہوتی ہے


میں نے ہر زخم کو لفظوں میں پرویا ایسے

جیسے تسبیح میں دانوں کی لڑی ہوتی ہے


جن کے آنگن میں اترتی نہیں خوشیوں کی کرن

ان کی تقدیر میں بس تیرہ شبی ہوتی ہے


آہ اٹھتی ہے شب ہجراں مگر رہ رہ کر

اشک کی آنکھ سے بھی پہلو تہی ہوتی ہے


صحبت خار میں پلتے ہیں محبت کے گلاب

سایہ ابر پہ بھی دھوپ کڑی ہوتی ہے


وقت کے ساتھ سبھی رنگ بدل جاتے ہیں

دوست داری بھی فقط نام کی ہی ہوتی ہے


تم جو آتے ہو بے نقاب تمہیں کیا معلوم

کسی کے دل کسی کی جاں پہ بنی ہوتی ہے


آئے وہ سامنے تو تاب بصارت نہ رہے

اور دیدار کی حسرت بھی بڑی ہوتی ہے


ساعت وصل میں بھی چین دل و جاں نہ ملا

تیرے ہوتے ہوئے بھی تیری کمی ہوتی ہے


اٹھ کے سینے سے لگاؤ مرا ماتھا چوموں

چارہ گر باتوں سے بھی چارہ گری ہوتی ہے؟


رنج و غم کے کبھی سائے کبھی ارماں کی تپش

زندگی تیری یہی پیش کشی ہوتی ہے


میں نے سینے میں کئی راز چھپائے ایسے

جیسے تصویر میں پوشیدہ صدی ہوتی ہے


رزق کے واسطے مرتا ہوں میں دن بھر لیکن

آئے دن گھر میں مرے فاقہ کشی ہوتی ہے


گھر سے نکلے جو کمانے کے لیے ہم بہزاد

پھر سمجھ آیا کہ کیا در بدری ہوتی ہے

...