گماں میں جلوہ محبوب کا سامنا کرتا ہوں
گماں میں جلوہ محبوب کا سامان کرتا ہوں
میں اپنے آپ سے اکثر عجب پیمان کرتا ہوں
لہو سے خنجر قاتل پہ یہ احسان کرتا ہوں
وہ مانگے یا نہ مانگے جان و دل قربان کرتا ہوں
مرے منہ سے نکلتی ہے دعا ہر ایک گالی پر
خس و خاشاک کے بدلے گل و گلدان کرتا ہوں
مرے حرف دعا پر کیوں تعجب ہے زمانے کو؟
میں سنگ کوئے قاتل کو بھی نخلستان کرتا ہوں
دل شوریدہ کو دیتا نہیں میں مہلت فریاد
میں ہر آہ نہاں کو ضبط کا عنوان کرتا ہوں
نہاں خانوں میں رکھتا ہوں میں صد ہا زخم ناگفتہ
مگر محفل میں ان کو شوخی عنوان کرتا ہوں
عدو کی سازشوں سے مجھ کو کیا اندیشہ دوراں
میں اپنی زندگی کو موت پر قربان کرتا ہوں
نیا رنگ تماشا ہے محبت اور نفرت میں
جسے دشمن سمجھتا ہوں اسی پر مان کرتا ہوں
مرے اطوار میں شامل ہے اک رمز تغیر بھی
کبھی چپ سادھ لیتا ہوں کبھی فرمان کرتا ہوں
کتابیں بیچ کر میں نے خریدی ہے نئی عینک
یوں اک میں فائدہ کرتا ہوں اک نقصان کرتا ہوں
خرد مندوں کی دنیا سے مرا رشتہ پرانا ہے
مگر دیوانگی کو زیور دیوان کرتا ہوں
بلاتے ہیں سر محفل مجھے آشفتہ سر کہہ کر
میں ان کو بے ضرر کہہ کر بہت حیران کرتا ہوں
مری وحشت کے عالم میں عجب تکرار رہتی ہے
کبھی بستی بساتا ہوں کبھی ویران کرتا ہوں
تہی دستی بھی رکھتی ہے مرا انداز شاہانہ
میں خاکستر کو بھی گویا زر دامان کرتا ہوں
خم مے کو لب تشنہ لگاتا ہوں، پہ بسم اللہ
کہ مے نوشی بھی گویا از رہ ایمان کرتا ہوں
گئے وہ دن کہ میں بھی مہر و الفت کا مطالب تھا
ستم گر کی حمایت کا میں اب اعلان کرتا ہوں
میں ہنس کر جھیل لیتا ہوں سبھی دشواریاں تیری
میں تجھ پر زندگی ہر روز اک احسان کرتا ہوں
مرے اشعار پیراہن ہیں میری خود نمائی کے
عیاں لیکن تخلص زیب سے پہچان کرتا ہوں
Join the conversation