کاش ایک بار میں جاؤں در آقا دیکھوں
کاش اک بار میں جاؤں درِ آقا دیکھوں
اتنی حسرت ہے کہ سرکار کا روضہ دیکھوں
سفر ایسا ہو کہ جنت سے ہوا آنے لگے
جب میں پہنچوں وہاں رحمت کا برسنا دیکھوں
عشقِ سرکار سے معمور ہو ہر ذرۂ جاں
میں مدینے میں سکونِ دلِ شیدا دیکھوں
جب بھی روضے کی فضا دے مجھے خوشبو کا پیام
میں سکوں پاؤں وہاں، رب کا کرم سا دیکھوں
صبحِ طیبہ کی ہوا چھو لے مرے زخمِ جگر
میں دوا اپنی وہاں مرہمِ آقا دیکھوں
دل کی دنیا میں اجالا ہو مدینے کی قسم
ہو جو قسمت میں، میں آقا کا مدینہ دیکھوں
ذکرِ آقا کا ہو، لب پر ہو درودوں کی صدا
محفلِ عشق میں سرکار کا جلوہ دیکھوں
سبز گنبد کی ضیا، چشمِ تمنا کے قریب
میں کرم کی وہ تجلی شبِ تنہا دیکھوں
عشق کے جام میں بھر جائے تجلی کا سرور
کعبۂ دل میں درودوں کا ہی دریا دیکھوں
کوئے جاناں میں ہو یا رب مری تقدیر لکھی
عرش سے اترے کرم، جلوۂ والا دیکھوں
حشر کے دن ہو کرم، سایۂ الطاف ملے
میں شفاعت کی حقیقت کا صحیفہ دیکھوں
تھام کر جالیاں روضے کی سناؤں غمِ دل
اپنے شانوں پہ میں پھر دستِ مسیحا دیکھوں
ہر طرف ایک صدا گونجے کہ آقا! آقا!
چار سو عظمتِ سرکار کا جلوہ دیکھوں
جب بھی روضے کی فضا دے مجھے خوشبوئے وفا
قلبِ عشاق میں پھر نعتِ تمنا دیکھوں
ذکرِ سرکار سے پر ہو مرا ہر حرفِ سخن
محفلِ عشق میں میں نور کا دریا دیکھوں
آخری دم ہو مدینے کی ہواؤں میں بسر
بند ہوتے ہی میں آنکھیں رخِ زیبا دیکھوں
قبر میں آقا جو کہہ دیں ہے یہ میرا نوکر
میں سکونِ دل و جاں ان کا سہارا دیکھوں
حشر کے دن بھی ہو سرکار کی امت میں شمار
اپنی بخشش پہ اے زیب ان کا حوالہ دیکھوں
منجانب: الموسا
Join the conversation