×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

یہ زندگی نے ہمیں اور کیا دیا ہے زیب

یہ زندگی نے ہمیں اور کیا دیا ہے زیب

جہاں بھی سر کو اٹھایا جھکا دیا ہے زیب


تپش کا خوف دلا کر ہے کھیلا لوگوں نے

کسی بھی سائے کے پیچھے لگا دیا ہے زیب


ہمیں بہار کے موسم نہیں لبھاتے اب

کسی نے ایسا خزاں کا مزا دیا ہے زیب


یہ کیسا شہر میں تیرے نظام الفت ہے

وفا کے بدلے میں عہد وفا دیا ہے زیب


یہاں کوئی نہ سمجھ پایا میرا سوز نہاں

بتانا چاہا بھی تو چپ کرا دیا ہے زیب


میں جیسے شاعری میں کوئی حرف علت ہوں

جہاں لگا ہے مناسب گرا دیا ہے زیب


بھلا بتاؤ میں کیسے نہ پیٹوں اپنا جگر

کسی یعقوب نے یوسف بھلا دیا ہے زیب


بھرے جہان میں جس کی کوئی مثل نہ ملی

وہ ایک شخص بھی ہم نے گنوا دیا ہے زیب


جہاں تھی ہنسنے کی حسرت وہاں رلایا گیا

جہاں تھی خواہش گریہ ہنسا دیا ہے زیب


ہمارے شہر میں باطل کی حکمرانی ہے

یہاں پہ سچ کو بھی سولی چڑھا دیا ہے زیب


ہمیشہ بیٹی کی خواہش میں آڑ بنتی ہے

یہ کس نے مشورہ دستار کا دیا ہے زیب؟


کھلونے بیچنے والے کو کیا خبر اس نے

کسی غریب کا بچہ رلا دیا ہے زیب


کسی کی تشنہ لبی پر جو میں نے نوحے کہے

کسی نے مژدہ ساون سنا دیا ہے زیب


ہمیں امید تھی جس سے مداوائے غم کی

اسی نے غم ہمیں حد سے سوا دیا ہے زیب


اڑا کے راکھ ہوا میں نامہ بر بولا

پڑھے بغیر ہی خط کو جلا دیا ہے زیب


کوئی تو صحرا میں ڈھونڈے کسی کے نقش قدم

کسی نے کیچ کا رستہ بھلا دیا ہے زیب


کسی طرح بھی مگر درد لا دوا نہ ملا

ہر ایک درد بھی تو آزما دیا ہے زیب


کسی کی راہ کو ہموار کرنے والے نے

ہمیں نصیب کا رستہ دکھا دیا ہے زیب


اب اور چلنے کا بھی حوصلہ نہیں باقی

یہ زندگی نے بہت ہی تھکا دیا ہے زیب


سناؤں کیا بھلا اب اور قصہ آدم

کسی نے خاک میں امرت ملا دیا ہے زیب


یہ کس کو دے رہے ہیں بد دعائیں دیر نشین؟

یہ کس نے معبد بت خانہ ڈھا دیا ہے زیب؟


اٹھا کے اپنے ہی ہاتھوں سے مضطرب مٹی

جو کچھ نہ بن سکا تم سے بنا دیا ہے زیب


خدا کی ذات سے بھی شکوہ بھلا کیا کرنا

کہ اس نے جو بھی دیا ہے بجا دیا ہے زیب


...
0:00
0:00
0:00