یہ زندگی نے ہمیں اور کیا دیا ہے زیب
یہ زندگی نے ہمیں اور کیا دیا ہے زیب
جہاں بھی سر کو اٹھایا جھکا دیا ہے زیب
تپش کا خوف دلا کر ہے کھیلا لوگوں نے
کسی بھی سائے کے پیچھے لگا دیا ہے زیب
ہمیں بہار کے موسم نہیں لبھاتے اب
کسی نے ایسا خزاں کا مزا دیا ہے زیب
یہ کیسا شہر میں تیرے نظام الفت ہے
وفا کے بدلے میں عہد وفا دیا ہے زیب
یہاں کوئی نہ سمجھ پایا میرا سوز نہاں
بتانا چاہا بھی تو چپ کرا دیا ہے زیب
میں جیسے شاعری میں کوئی حرف علت ہوں
جہاں لگا ہے مناسب گرا دیا ہے زیب
بھلا بتاؤ میں کیسے نہ پیٹوں اپنا جگر
کسی یعقوب نے یوسف بھلا دیا ہے زیب
بھرے جہان میں جس کی کوئی مثل نہ ملی
وہ ایک شخص بھی ہم نے گنوا دیا ہے زیب
جہاں تھی ہنسنے کی حسرت وہاں رلایا گیا
جہاں تھی خواہش گریہ ہنسا دیا ہے زیب
ہمارے شہر میں باطل کی حکمرانی ہے
یہاں پہ سچ کو بھی سولی چڑھا دیا ہے زیب
ہمیشہ بیٹی کی خواہش میں آڑ بنتی ہے
یہ کس نے مشورہ دستار کا دیا ہے زیب؟
کھلونے بیچنے والے کو کیا خبر اس نے
کسی غریب کا بچہ رلا دیا ہے زیب
کسی کی تشنہ لبی پر جو میں نے نوحے کہے
کسی نے مژدہ ساون سنا دیا ہے زیب
ہمیں امید تھی جس سے مداوائے غم کی
اسی نے غم ہمیں حد سے سوا دیا ہے زیب
اڑا کے راکھ ہوا میں نامہ بر بولا
پڑھے بغیر ہی خط کو جلا دیا ہے زیب
کوئی تو صحرا میں ڈھونڈے کسی کے نقش قدم
کسی نے کیچ کا رستہ بھلا دیا ہے زیب
کسی طرح بھی مگر درد لا دوا نہ ملا
ہر ایک درد بھی تو آزما دیا ہے زیب
کسی کی راہ کو ہموار کرنے والے نے
ہمیں نصیب کا رستہ دکھا دیا ہے زیب
اب اور چلنے کا بھی حوصلہ نہیں باقی
یہ زندگی نے بہت ہی تھکا دیا ہے زیب
سناؤں کیا بھلا اب اور قصہ آدم
کسی نے خاک میں امرت ملا دیا ہے زیب
یہ کس کو دے رہے ہیں بد دعائیں دیر نشین؟
یہ کس نے معبد بت خانہ ڈھا دیا ہے زیب؟
اٹھا کے اپنے ہی ہاتھوں سے مضطرب مٹی
جو کچھ نہ بن سکا تم سے بنا دیا ہے زیب
خدا کی ذات سے بھی شکوہ بھلا کیا کرنا
کہ اس نے جو بھی دیا ہے بجا دیا ہے زیب
Join the conversation