قلب جب درد آشنا نہ ہوا
قلب جب درد آشنا نہ ہوا
یار کا ہونا بھی دوا نہ ہوا
ہم تڑپتے رہے شب فرقت
ایک لمحہ بھی جاں فزا نہ ہوا
چاک دامن ز پنجہ وحشت
ہجر میں تیرے کیا سے کیا نہ ہوا
قلزم خوں بہ شکل گریہ دل
میرا رونا بھی مدعا نہ ہوا
دل سے نکلا جگر کے پار گیا
تیر ظالم ذرا خطا نہ ہوا
نقش بر آب نکلی ہر خواہش
کوئی ہم درد و ہم نوا نہ ہوا
کیوں دل مضطرب کو چین نہیں
ایسا کیا ہے جو ہونا تھا نہ ہوا
ہجر کی شب بھی ڈھل گئی آخر
دل کا اندوہ کم ذرا نہ ہوا
دل کی ویران بستیوں میں کبھی
کوئی موسم بھی دلربا نہ ہوا
دل کی بستی عجیب بستی ہے
جو بھی آیا رکا روانہ ہوا
جب کسی کی نہیں تڑپ اس میں
دل کا ہونا ہے کہ ہوا نہ ہوا
یاد آتا ہے مصرع غالب
درد منت کش دوا نہ ہوا
عمر بھر ہم نے بندگی کی ہے
حق سجدہ مگر ادا نہ ہوا
ہیں عدم کی کہاوتیں بے جا
جو ہوا جب ہوا برا نہ ہوا
کیا بنے گا ہمارا محشر میں؟
ہم سے راضی اگر خدا نہ ہوا
اب ستم کیش تو نہیں کہیے
یہ بہانہ تو آپ کا نہ ہوا
کیا یہ کم ہے؟ رہ محبت میں
ہم سا کوئی بھی دوسرا نہ ہوا
ایک غم ہے جو یک پرستی میں
شامل محفل عزا نہ ہوا
گاہے گاہے فریب کھائے ہیں
دل مگر عہد آشنا نہ ہوا
تھی خبر کیا ہے پاسخط مکتوب
ربط رکھنے کا اک بہانہ ہوا
حرف مطلب زباں تک آ تو گیا
پاس غیرت سے لب کشا نہ ہوا
ورنہ ہنستے حریف دونوں پر
صد شکر قصہ برملا نہ ہوا
نام آیا جو زیب کا بولے
جو بھی ہے پر وہ بے وفا نہ ہوا
قصہ المختصر یہ ہے بہزاد
میں ترا اور تو مرا نہ ہوا
منجانب محمد نعیم
Join the conversation