×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

سنبل کو ارغواں سے جو رغبت نہیں رہی

سنبل کو ارغواں سے جو رغبت نہیں رہی

خوشبو کو بھی صبا سے رفاقت نہیں رہی


گلشن میں اب وہ خوئے عقیدت نہیں رہی

کلیوں میں مسکرانے کی ہمت نہیں رہی


تھک کر گرے ہیں ٹوٹ کے شاخ نہال سے

پھولوں کو اب ہوا سے شکایت نہیں رہی


آئی جو اب کے صحن گلستاں میں نو بہار

پایا چمن میں اس کی ضرورت نہیں رہی


دیکھا ٹھہر ٹھہر کے شجر نے زمین کو

کیوں شاخ ثمر دار میں لذت نہیں رہی


جب سے خزاں نے لوٹی ہے خوشبو گلاب کی

کانٹوں کو بھی کسی سے عداوت نہیں رہی


دامن چھڑا کے دور بہت جا چکا ہے وہ

ہم کو بھی کسی شخص کی حاجت نہیں رہی


ان کا بھی مدتوں سے کوئی خط نہیں ملا

ہم کو بھی یاد کرنے کی فرصت نہیں رہی


شاید کہ اب کی بار تجھے بھول جاؤں میں

پہلے سی انتظار میں شدت نہیں رہی


رخ پھیر کر چلے گئے سب ہم خیال بھی

باقی کسی میں رسم مروت نہیں رہی


موہوم داستان محبت نہ چھیڑیے

ہم کو فسانہ گوئی کی عادت نہیں رہی


اہل جفا کو مل رہی ہیں عزتیں یہاں

مہر و وفا کی اب کوئی قیمت نہیں رہی


تہذیب کا جنازہ تو کب کا نکل گیا

شہر ہوس میں شرم و مروت نہیں رہی


دست ہوس نے چھین لی تقدیس علم و فن

شعر و سخن میں اب وہ لطافت نہیں رہی


شوخی نوش جام بتاتی ہے آپ کی

پیر مغاں سے خاص سی صحبت نہیں رہی


آنے پہ غیر کے ہمیں کہتے ہیں الوداع

اب کوچہ جاناں میں وہ شہرت نہیں رہی


ترسیں گے ہم اب آپ کے دیدار کے لیے؟

اتنی بھی اچھی آپ کی صورت نہیں رہی


اب شور حشر بھی ہمیں چونکا نہ پائے گا

باقی شعور میں کوئی حیرت نہیں رہی


ہرگز نہ میری بات کو اب کاٹیے گا آپ

اب آپ کو یہ پیش سہولت نہیں رہی


غصے میں آپ کا میں گریباں نہ پکڑ لوں؟

شامل انا میں اب کوئی نسبت نہیں رہی


دیکھیں حضور اپنی زباں کو لگام دیں

اب آپ کی یہاں پہ وہ عزت نہیں رہی


بعد از فراق ایسا بھی کیا حادثہ ہوا

کیوں آپ کی وہ پھول سی رنگت نہیں رہی


کرتے بھی خود سے دور نہیں آپ زیب کو

اور یہ بھی کہہ رہے ہیں محبت نہیں رہی


منجانب محمد نعیم

...
0:00
0:00
0:00