سنبل کو ارغواں سے جو رغبت نہیں رہی
سنبل کو ارغواں سے جو رغبت نہیں رہی
خوشبو کو بھی صبا سے رفاقت نہیں رہی
گلشن میں اب وہ خوئے عقیدت نہیں رہی
کلیوں میں مسکرانے کی ہمت نہیں رہی
تھک کر گرے ہیں ٹوٹ کے شاخ نہال سے
پھولوں کو اب ہوا سے شکایت نہیں رہی
آئی جو اب کے صحن گلستاں میں نو بہار
پایا چمن میں اس کی ضرورت نہیں رہی
دیکھا ٹھہر ٹھہر کے شجر نے زمین کو
کیوں شاخ ثمر دار میں لذت نہیں رہی
جب سے خزاں نے لوٹی ہے خوشبو گلاب کی
کانٹوں کو بھی کسی سے عداوت نہیں رہی
دامن چھڑا کے دور بہت جا چکا ہے وہ
ہم کو بھی کسی شخص کی حاجت نہیں رہی
ان کا بھی مدتوں سے کوئی خط نہیں ملا
ہم کو بھی یاد کرنے کی فرصت نہیں رہی
شاید کہ اب کی بار تجھے بھول جاؤں میں
پہلے سی انتظار میں شدت نہیں رہی
رخ پھیر کر چلے گئے سب ہم خیال بھی
باقی کسی میں رسم مروت نہیں رہی
موہوم داستان محبت نہ چھیڑیے
ہم کو فسانہ گوئی کی عادت نہیں رہی
اہل جفا کو مل رہی ہیں عزتیں یہاں
مہر و وفا کی اب کوئی قیمت نہیں رہی
تہذیب کا جنازہ تو کب کا نکل گیا
شہر ہوس میں شرم و مروت نہیں رہی
دست ہوس نے چھین لی تقدیس علم و فن
شعر و سخن میں اب وہ لطافت نہیں رہی
شوخی نوش جام بتاتی ہے آپ کی
پیر مغاں سے خاص سی صحبت نہیں رہی
آنے پہ غیر کے ہمیں کہتے ہیں الوداع
اب کوچہ جاناں میں وہ شہرت نہیں رہی
ترسیں گے ہم اب آپ کے دیدار کے لیے؟
اتنی بھی اچھی آپ کی صورت نہیں رہی
اب شور حشر بھی ہمیں چونکا نہ پائے گا
باقی شعور میں کوئی حیرت نہیں رہی
ہرگز نہ میری بات کو اب کاٹیے گا آپ
اب آپ کو یہ پیش سہولت نہیں رہی
غصے میں آپ کا میں گریباں نہ پکڑ لوں؟
شامل انا میں اب کوئی نسبت نہیں رہی
دیکھیں حضور اپنی زباں کو لگام دیں
اب آپ کی یہاں پہ وہ عزت نہیں رہی
بعد از فراق ایسا بھی کیا حادثہ ہوا
کیوں آپ کی وہ پھول سی رنگت نہیں رہی
کرتے بھی خود سے دور نہیں آپ زیب کو
اور یہ بھی کہہ رہے ہیں محبت نہیں رہی
منجانب محمد نعیم
Join the conversation