سراب عشق میں ہم عمر جاں برباد کرتے ہیں
سراب عشق میں ہم عمر جاں برباد کرتے ہیں
غم ہجراں کو مثل باد صرصر یاد کرتے ہیں
شکست دل کو ہم نے حرف تقدیر خدا جانا
سراپا شکر رہ کر شعلہ فریاد کرتے ہیں
شب ظلمت میں جلتی ہے چراغ صبر کی لو بھی
ہم اپنی روشنی سے طاق دل آباد کرتے ہیں
نگاہ یار کی شوخی میں ڈھونڈا ہے جہان نو
اسی افسانے کو ہم درد کی بنیاد کرتے ہیں
سحر کے وقت جب اشکوں کا دریا بہہ نکلتا ہے
ہم اپنی چشم کو صحرا میں بھی آباد کرتے ہیں
نگاہ شوق میں ہم نے بہار دل کو دیکھا ہے
اسی منظر کو ہم آئینہ فولاد کرتے ہیں
حیات زہر کو ہم نے نشاط عشق سے بدلا
مصیبت کے سفر کو عزم سے ہم شاد کرتے ہیں
فنا کے شہر میں بھی زندگی کا رنگ بھرتے ہیں
ہزاروں درد سہہ کر حوصلے ایجاد کرتے ہیں
شب فرقت تذبذب میں عجب کچھ بڑبڑاتے ہیں
خیال یار سے وحشت کدہ آباد کرتے ہیں
وہ شیریں زاد خوش ہے خسرو محبوب کو پاکر
ہم اپنی بے خودی کو لذت فرہاد کرتے ہیں
جہاں امید کی شمعیں ہوا سے بجھ نہیں پاتیں
ہم اپنی جستجو کو شعلہ بیداد کرتے ہیں
سخن فہمی نے بخشا ہے ہنر ایسا ہمیں اے زیب
کہ اپنے درد کو ہم خلق پر ارشاد کرتے ہیں
نسیم مرگ آئی ہے مری تیمارداری کو
اٹھو زیب اب جہان غرق کو آباد کرتے ہیں
Join the conversation