×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

سراب عشق میں ہم عمر جاں برباد کرتے ہیں

سراب عشق میں ہم عمر جاں برباد کرتے ہیں
غم ہجراں کو مثل باد صرصر یاد کرتے ہیں

شکست دل کو ہم نے حرف تقدیر خدا جانا
سراپا شکر رہ کر شعلہ فریاد کرتے ہیں

شب ظلمت میں جلتی ہے چراغ صبر کی لو بھی
ہم اپنی روشنی سے طاق دل آباد کرتے ہیں

نگاہ یار کی شوخی میں ڈھونڈا ہے جہان نو
اسی افسانے کو ہم درد کی بنیاد کرتے ہیں

سحر کے وقت جب اشکوں کا دریا بہہ نکلتا ہے
ہم اپنی چشم کو صحرا میں بھی آباد کرتے ہیں

نگاہ شوق میں ہم نے بہار دل کو دیکھا ہے
اسی منظر کو ہم آئینہ فولاد کرتے ہیں

حیات زہر کو ہم نے نشاط عشق سے بدلا
مصیبت کے سفر کو عزم سے ہم شاد کرتے ہیں

فنا کے شہر میں بھی زندگی کا رنگ بھرتے ہیں
ہزاروں درد سہہ کر حوصلے ایجاد کرتے ہیں

شب فرقت تذبذب میں عجب کچھ بڑبڑاتے ہیں
خیال یار سے وحشت کدہ آباد کرتے ہیں

وہ شیریں زاد خوش ہے خسرو محبوب کو پاکر
ہم اپنی بے خودی کو لذت فرہاد کرتے ہیں

جہاں امید کی شمعیں ہوا سے بجھ نہیں پاتیں
ہم اپنی جستجو کو شعلہ بیداد کرتے ہیں

سخن فہمی نے بخشا ہے ہنر ایسا ہمیں اے زیب
کہ اپنے درد کو ہم خلق پر ارشاد کرتے ہیں

نسیم مرگ آئی ہے مری تیمارداری کو
اٹھو زیب اب جہان غرق کو آباد کرتے ہیں
...