×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

سوال اندر سوال لے کر کہاں چلے ہو

سوال اندر سوال لے کر کہاں چلے ہو
یہ آسمان ملال لے کر کہاں چلے ہو

جنوں کے رستے میں یہ خودی بھی عذاب ہوگی
خرد کا کوہ وبال لے کر کہاں چلے ہو

کہاں پہ کھولو گے درد اپنا کسے کہوگے
کہیں چھپاؤ، یہ حال لے کر کہاں چلے ہو

نہا رہے ہو عذاب ہجراں کی بارشوں میں
ذرا سی گرد وصال لے کر کہاں چلے ہو

سراب پینے کی آرزو ہے تو جواب دے دو
سفر میں خواب و خیال لے کر کہاں چلے ہو

چلے ہو جب تو ہمارے موسم بدل چکے ہیں
سنو یہ میرے وبال لے کر کہاں چلے ہو


...