×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

نواب زادی (نظم)

نواب زادی تمہیں کہا تھا 
کے تم ہو اونچے گھرانے والی 
تمہارے اجداد شان والے 
تمہارے گھر میں ہزار نوکر 
تمہارے قدموں میں سنگ مر مر

مگر میں ادنیٰ غریب زادہ
 
کہا تھا تم سے نواب زادی 
کے تم نبھا نہ سکو گی مجھ سے 
تمہارے گھر کے ہیں سو مسائل 
تمہارے بابا کے سر کی پگڑی 
جو درمیاں آ گئی ہمارے
  تو تم مصیبت میں آ پڑو گی 
مگر یہ تم نے کہا تھا مجھ سے
تمہاری خاطر میں لڑ پڑوں گی 
بھلے ہو بابا کے سر کی پگڑی 
غریب زادے تمہیں چنوں گی
نواب زادی کہا تھا تم نے 
کے ساتھ دو گی ہمیشہ میرا 
کبھی نہ چھوڑو گی ہاتھ میرا 

سو اب نبھانے کا وقت آیا 

تمہارا وعدہ تھا میری خاطر 
لڑو گی سب سے مُجھے چنو گی 
تمہارا وعدہ تھا ساتھ دو گی
کبھی نہ مجھ سے دغا کرو گی 

نواب زادی خموش کیوں ہو 
 نواب زادی جواب دو نہ 

کہا تھا میں نے تو پہلے دن ہی
کے تم نبھا نہ سکو گی مجھ سے

کہا تھا تمکو نواب زادی

تمہارے جذباتی فیصلوں نے
تمہارا کُچھ بھی نہیں بگاڑا 
مگر یہ تم نے غریب ماں کا 
غریب زادہ اُجاڈ ڈالا

منجانب: حیا عشق
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ہماری دسترس میں کیا نہیں ہے 
مگر کوئی تیرے جیسا نہیں ہے
...