×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen
    Detecting Location...
    NEXT EVENT --:--:--
    SEHRI --:--
    IFTAR --:--
    📅 View Full Calendar

    آواز کے ہم راہ سراپا بھی تو دیکھوں

    آواز کے ہم راہ سراپا بھی تو دیکھوں
    اے جان سخن میں تیرا چہرہ بھی تو دیکھوں

    دستک تو کچھ ایسی ہے کہ دل چھونے لگی ہے
    اس حبس میں بارش کا یہ جھونکا بھی تو دیکھوں

    صحرا کی طرح رہتے ہوئے تھک گئیں آنکھیں
    دکھ کہتا ہے میں اب کوئی دریا بھی تو دیکھوں

    یہ کیا کہ وہ جب چاہے مجھے چھین لے مجھ سے
    اپنے لئے وہ شخص تڑپتا بھی تو دیکھوں

    اب تک تو مرے شعر حوالہ رہے تیرا
    اب میں تری رسوائی کا چرچا بھی تو دیکھوں

    اب تک جو سراب آئے تھے انجانے میں آئے
    پہچانے ہوئے رستوں کا دھوکا بھی تو دیکھوں


    ...