جانبِ کُن پہ نظر ہے میری
جانبِ کُن پہ نظر ہے میری
نور یا ذات بشر ہے میری
جس پہ کانٹے ہوں نچھاور اتنے
وہ بھی اک راہ گزر ہے میری
اہلِ محفل کو گماں کیا ہو گا
کس قدر دیدۂ تر ہے میری
تم بھی اوروں کی طرح بگڑے ہو
یہ بھی سنگت کا اثر ہے میری
سوزِ پنہاں کو نہ سمجھو کم تر
آتشِ زیرِ شرر ہے میری
گرچہ خوشبو کو شکایت ہو تو
ایسی کلیوں پہ سحر ہے میری
شعر کہنے کی صلاحیت میں
اچھے اچھوں کو خبر ہے میری
یہ نہ سوچو کہ ہے غافل نورس
ساتھ بیٹھے پہ نظر ہے میری
Join the conversation