×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

کبھی دو گھونٹ پی کر جب طبیعت کو سرور آیا

کبھی دو گھونٹ پی کر جب طبیعت کو سرور آیا
تو کچھ کچھ زندگی کا بادہ نوشوں کو شعور آیا

لکھیں جب کاتب تقدیر نے بندوں کی تقدیریں
مرے حصے میں عجز اور ان کے حصے میں غرور آیا

اگر ہندو مسلماں خالصاً انسان ہیں سارے
تو کیوں تفریق کا ہے ان کی عقلوں میں فتور آیا

محبت میں شکایت لب پہ لاؤں میری کیا جرأت
اچانک آنکھ بھر آئی جو میں تیرے حضور آیا

خدا معلوم اس کو کس لئے رغبت ہوئی ہم سے
کہ جب بھی مے کشی کی شیخ سمجھانے ضرور آیا

امیدیں ہو چکی تھیں ختم یکسر زندگانی کی
تم آئے تو مریض عشق کے چہرے پہ نور آیا

نریشؔ اقصائے عالم جگمگا اٹھے نگاہوں میں
تصور میں مرے جس دم مرا وہ رشک حور آیا
...
0:00
0:00
0:00