×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

ہم سے بھی گاہے گاہے ملاقات چاہیئے

ہم سے بھی گاہے گاہے ملاقات چاہیئے
انسان ہیں سبھی تو مساوات چاہیئے

اچھا چلو خدا نہ سہی ان کو کیا ہوا
آخر کوئی تو قاضی حاجات چاہیئے

ہے عاقبت خراب تو دنیا ہی ٹھیک ہو
کوئی تو صورت گزر اوقات چاہیئے

جانے پلک جھپکنے میں کیا گل کھلائے وقت
ہر دم نظر بہ صورت حالات چاہیئے

آئے گی ہم کو راس نہ یک رنگئ خلا
اہل زمیں ہیں ہم ہمیں دن رات چاہیئے

وا کر دئیے ہیں علم نے دریائے معرفت
اندھوں کو اب بھی کشف و کرامات چاہیئے

جب قیس کی کہانی اب انجم کی داستاں
دنیا کو دل لگی کے لیے بات چاہیئے
...
0:00
0:00
0:00