کبھی آیا نہ وہ قابو ہمارے
کبھی آیا نہ وہ قابو ہمارے
کھلے ہی رہ گئے بازو ہمارے
سسکتے اور مرتے جا رہے ہیں
تمہارے دشت میں آہو ہمارے
ہوئی مشکل نہ ہم سے حل تمہاری
نہ سیدھے ہو سکے الو ہمارے
چراغوں کے مقابل آ گئے ہیں
بہت معصوم ہیں جگنو ہمارے
دعائے ہجر تھی خود کو ہماری
مگر آباد ہیں پہلو ہمارے
مسل دو پاؤں میں تلوار اپنی
لبوں سے کاٹ دو چاقو ہمارے
Join the conversation