زندگی کب یہاں صدمات جئے جاتے ہیں
زندگی کب یہاں صدمات جئے جاتے ہیں
حادثہ ہو نہ ہو خدشات جئے جاتے ہیں
کیا ضرورت ہے ہمیں دوست، کسی دشمن کی
ہم تو اپنوں کی عنایات جئے جاتے ہیں
ہے بسیرا مرا اس شہرِ پریشاں میں جہاں
صرف لوگوں کے سوالات جئے جاتے ہیں
لوگ اٹھتے ہیں نئے دن سے امیدیں لے کر
ہم کہ دن رات بس اک رات جئے جاتے ہیں
کوئی کیسے انہیں سمجھائے ، منائے ، روکے
ساتھ ہوتے نہیں اور ساتھ جئے جاتے ہیں
کون تھا، کیوں تھا، ملا کیوں تھا بچھڑنے کے لئے
جان لیوا سے خیالات جئے جاتے ہیں
وہ ترے ناز و ادا ، وعدے ، وفائیں تیری
جو نہ برسی ، وہی برسات جئے جاتے ہیں
تیرے ہونے سے مرا نام ہوا ہے ابرک
ہم اسی بات میں ہر بات جئے جاتے ہیں
https://res.cloudinary.com/div3sace8/video/upload/v1783785576/7657913399539469598-Tikdown.net_if1z5z.mp4
Join the conversation