×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

سویرے میں بھی حالت شام کی ہے

سویرے میں بھی حالت شام کی ہے
یہ کیسی صبح کیسی روشنی ہے

ہوا کے قافلے سوئے ہوئے ہیں
گھنے جنگل میں پھیلی خامشی ہے

لیے ہاتھوں میں تنہائی کا پرچم
اداسی سسکیوں سے لڑ رہی ہے

سمٹنا اب نظر آتا ہے مشکل
بہت بکھری ہماری زندگی ہے

بہت حیرت سے تکتے ہیں ستارے
ندی جب ساحلوں سے کھیلتی ہے

نظر کے سامنے منزل ہے لیکن
مسافت پھر بھی بڑھتی جا رہی ہے

برس کر جا چکا ہے ابر پارہ
زمیں سے کیسی خوشبو آ رہی ہے

زمیں اوڑھے ہوئے ہے سر پہ آنچل
یہ جو قوس قزح بکھری ہوئی ہے

تلاش برگ گل ہے اس کو شاید
جو تتلی پنکھ کھولے اڑ رہی ہے

گزرتا وقت جو چاہے وہ لکھے
کتاب زندگی سادہ پڑی ہے

یقیناً آ گیا ہے وقت آخر
دیے کی لو جو اتنی بڑھ گئی ہے

کسی طوفان کا ہے پیش خیمہ
سمندر میں جو اتنی خامشی ہے

اگر گھر میں نہیں ہے نورؔ کوئی
تو یہ آواز کیسی آ رہی ہے
...
0:00
0:00
0:00