×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

طفل کو سلانا ہے تھپکیاں سمجھتی ہیں

طفل کو سلانا ہے تھپکیاں سمجھتی ہیں
فکر ساری ماؤں کی لوریاں سمجھتی ہیں

آب و تاب رکھتے ہیں لوگ بھی سمندر بھی
کون کتنا گہرا ہے ڈبکیاں سمجھتی ہیں

صبح صبح جاتے ہیں روٹیاں کمانے کو
باپ کی جو حالت ہے بیٹیاں سمجھتی ہیں

وہ بھی ظلم سہتی ہیں وہ بھی ٹوٹ جاتی ہیں
درد ایک عورت کا چوڑیاں سمجھتی ہیں

جب شعورؔ دلبر کا انتظار کرتا ہے
اس کی بے قراری کو کھڑکیاں سمجھتی ہیں

...
0:00
0:00
0:00