یقین چھین لیا اور گمان چھوڑ گیا
یقین چھین لیا اور گمان چھوڑ گیا
میرے وجود کا کچھ تو نشان چھوڑ گیا
خزا نے چھوڑ لیے رنگ بے ثباتی کے
یہ کیسے نہج پہ میرا باغبان چھوڑ گیا
تمام عمر رہا ساتھ اور منزل پر
زمین چھوڑ گیا آسمان چھوڑ گیا
مجھے تھا ازن فضاؤں میں دور جانے کا
میرے بریدہ پردوں میں اڑان چھوڑ گیا
ابھی بھی گونج رہا ہے سنہری یادوں سے
شکستہ خواب سا ایک سائبان چھوڑ گیا
پکارتے ہیں وہی راستے بہاروں کے
یہ کس جگہ پہ میرا مہربان چھوڑ گیا
Join the conversation