×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

یقین چھین لیا اور گمان چھوڑ گیا

یقین چھین لیا اور گمان چھوڑ گیا 
میرے وجود کا کچھ تو نشان چھوڑ گیا 

 خزا نے چھوڑ لیے رنگ بے ثباتی کے
یہ کیسے نہج پہ میرا باغبان چھوڑ گیا 

تمام عمر رہا ساتھ اور منزل پر 
زمین چھوڑ گیا آسمان چھوڑ گیا 

مجھے تھا ازن فضاؤں میں دور جانے کا 
میرے بریدہ پردوں میں اڑان چھوڑ گیا 

ابھی بھی گونج رہا ہے سنہری یادوں سے 
شکستہ خواب سا ایک سائبان چھوڑ گیا

پکارتے ہیں وہی راستے بہاروں کے 
یہ کس جگہ پہ میرا مہربان چھوڑ گیا 
...
0:00
0:00
0:00