×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

ہجر نامہ پڑھتے پڑھتے داستاں ہو جاؤں گا

ہجر نامہ پڑھتے پڑھتے داستاں ہو جاؤں گا
ایک دن میں بھی شریک کارواں ہو جاؤں گا

با زباں ہوتے ہوئے بھی بے زباں ہو جاؤں گا
دل سے چاہو تو تمہارا راز داں ہو جاؤں گا

بعد از تاراج میں نے یہ کبھی سوچا نہ تھا
پھر کسی گل سے ملوں گا گلستاں ہو جاؤں گا

تم کسی واعظ کے چکر میں جدا ہو جاؤ گی
میں کسی بے سر مؤذن کی اذاں ہو جاؤں گا

تھام کر ہاتھوں میں اپنے وقت کی بیساکھیاں
منزل مقصود کی جانب رواں ہو جاؤں گا

مطمئن رہنا پڑے گا پر نکلنے تک مجھے
گر ابھی نکلا قفس سے بے اماں ہو جاؤں گا

تیرگی کی سازشیں ناکام کرنے کے لئے
صبح صادق شمس کی صورت عیاں ہو جاؤں گا

گر یوں ہی لپٹا رہا میں کاکل خم دار سے
آگ بجھتے ہی محبت کی دھواں ہو جاؤں گا

مسکرانے کی اگر مہلت بھی دی جائے مجھے
اس قدر مجبور ہوں گریہ کناں ہو جاؤں گا

اے پری زادی مرے اندام کا رعشہ نہ دیکھ
صبر گر ٹوٹا ضعیفی میں جواں ہو جاؤں گا

لوگ سیکھیں گے مرے مرنے سے جینے کا ہنر
میں پئے عشاق عبرت کا نشاں ہو جاؤں گا

میں تری جلوہ گری کی تاب لا سکتا نہیں
مثل موسیٰ لقمۂ برق تپاں ہو جاؤں گا

فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
یہ روش جاری رہی تو جاوداں ہو جاؤں گا

موت کی حسرت بنے گی آخری چارہ میرا
جب محبت کے سفر میں نیم جاں ہو جاؤں گا

جب بھی آزادی ملے گی گردش ایام سے
میں بھی محورؔ عاشق بنت فلاں ہو جاؤں گا


...
0:00
0:00
0:00