ہجر نامہ پڑھتے پڑھتے داستاں ہو جاؤں گا
ہجر نامہ پڑھتے پڑھتے داستاں ہو جاؤں گا
ایک دن میں بھی شریک کارواں ہو جاؤں گا
با زباں ہوتے ہوئے بھی بے زباں ہو جاؤں گا
دل سے چاہو تو تمہارا راز داں ہو جاؤں گا
بعد از تاراج میں نے یہ کبھی سوچا نہ تھا
پھر کسی گل سے ملوں گا گلستاں ہو جاؤں گا
تم کسی واعظ کے چکر میں جدا ہو جاؤ گی
میں کسی بے سر مؤذن کی اذاں ہو جاؤں گا
تھام کر ہاتھوں میں اپنے وقت کی بیساکھیاں
منزل مقصود کی جانب رواں ہو جاؤں گا
مطمئن رہنا پڑے گا پر نکلنے تک مجھے
گر ابھی نکلا قفس سے بے اماں ہو جاؤں گا
تیرگی کی سازشیں ناکام کرنے کے لئے
صبح صادق شمس کی صورت عیاں ہو جاؤں گا
گر یوں ہی لپٹا رہا میں کاکل خم دار سے
آگ بجھتے ہی محبت کی دھواں ہو جاؤں گا
مسکرانے کی اگر مہلت بھی دی جائے مجھے
اس قدر مجبور ہوں گریہ کناں ہو جاؤں گا
اے پری زادی مرے اندام کا رعشہ نہ دیکھ
صبر گر ٹوٹا ضعیفی میں جواں ہو جاؤں گا
لوگ سیکھیں گے مرے مرنے سے جینے کا ہنر
میں پئے عشاق عبرت کا نشاں ہو جاؤں گا
میں تری جلوہ گری کی تاب لا سکتا نہیں
مثل موسیٰ لقمۂ برق تپاں ہو جاؤں گا
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
یہ روش جاری رہی تو جاوداں ہو جاؤں گا
موت کی حسرت بنے گی آخری چارہ میرا
جب محبت کے سفر میں نیم جاں ہو جاؤں گا
جب بھی آزادی ملے گی گردش ایام سے
میں بھی محورؔ عاشق بنت فلاں ہو جاؤں گا
Join the conversation