×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

مری زندگی تو فراق ہے وہ ازل سے دل میں مکیں سہی

مری زندگی تو فراق ہے وہ ازل سے دل میں مکیں سہی وہ نگاہ شوق سے دور ہیں رگ جاں سے لاکھ قریں سہی ہمیں جان دینی ہے ایک دن وہ کسی طرح وہ کہیں سہی ہمیں آپ کھینچیے دار پر جو نہیں کوئی تو ہمیں سہی نہ ہو ان پہ جو مرا بس نہیں کہ یہ عاشقی ہے ہوس نہیں میں انہیں کا تھا میں انہیں کا ہوں وہ مرے نہیں تو نہیں سہی سر طور ہو سر حشر ہو ہمیں انتظار قبول ہے وہ کبھی ملیں وہ کہیں ملیں وہ کبھی سہی وہ کہیں سہی مجھے بیٹھنے کی جگہ ملے مری آرزو کا بھرم رہے تری انجمن میں اگر نہیں تری انجمن کے قریں سہی ترے واسطے ہے یہ وقف سر رہے تا ابد ترا سنگ در کوئی سجدہ ریز نہ ہو سکے تو نہ ہو مری ہی جبیں سہی مری زندگی کا نقیب ہے نہیں دور مجھ سے قریب ہے مجھے اس کا غم تو نصیب ہے وہ اگر نہیں تو نہیں سہی جو ہو فیصلہ وہ سنائیے اسے حشر پر نہ اٹھائیے جو کریں گے آپ ستم وہاں وہ ابھی سہی وہ یہیں سہی اسے دیکھنے کی جو لو لگی تو نصیرؔ دیکھ ہی لیں گے ہم وہ ہزار آنکھ سے دور ہو وہ ہزار پردہ نشیں سہی

شاعر: پیر نصیر الدین نصیر
منجانب: صوفی بھائی

...