کیوں توڑتے ہیں آپ یہ کاسہ فقیر کا
کیوں توڑتے ہیں آپ یہ کاسہ فقیر کا
دیکھا نہیں ہے آپ نے غصہ فقیر کا
رکھا خدا نے رزق میں اس کا بھی انتظام
ہر شخص کھا رہا ہے یہ حصہ فقیر کا
اپنے قدم اٹھا تو بڑے احترام سے
یہ عام جا نہیں ہے ، ہے رستہ فقیر کا
مٹھی میں کائنات ٹھکانہ ہے خاک پر
اب اور کیا بتاؤں میں نقشہ فقیر کا
میری نظر میں رونقِ دنیا فریب ہے
لگتا ہے جیسے مجھ پہ ہے سایہ فقیر کا
محروم اس لیے ہیں کہ سمجھے نہیں کبھی
بس آپ دیکھتے ہیں یہ حلیہ فقیر کا
اکتا گیا ہے یہ بھی تو دنیا کے شور سے
دل کو بھلا لگا ہے یہ حجرہ فقیر کا
Join the conversation