×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen
    Detecting Location...
    NEXT EVENT --:--:--
    SEHRI --:--
    IFTAR --:--
    📅 View Full Calendar

    ہے کس قدر ہلاک فریب وفائے گل

    ہے کس قدر ہلاک فریب وفائے گل
    بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل

    آزادی نسیم مبارک کہ ہر طرف
    ٹوٹے پڑے ہیں حلقۂ دام ہوائے گل

    خوش حال اس حریف سیہ مست کا کہ جو
    رکھتا ہو مثل سایۂ گل سر بہ پائے گل

    جو تھا سو موج رنگ کے دھوکے میں مر گیا
    اے واے نالۂ لب خونیں نوائے گل

    ایجاد کرتی ہے اسے تیرے لیے بہار
    میرا رقیب ہے نفس عطر سائے گل

    شرمندہ رکھتے ہیں مجھے باد بہار سے
    مینائے بے شراب و دل بے ہوائے گل

    سطوت سے تیرے جلوۂ حسن غیور کی
    خوں ہے مری نگاہ میں رنگ ادائے گل

    تیرے ہی جلوہ کا ہے یہ دھوکا کہ آج تک
    بے اختیار دوڑے ہے گل در قفائے گل

    غالبؔ مجھے ہے اس سے ہم آغوشی آرزو
    جس کا خیال ہے گل جیب قبائے گل

    مژگاں تلک رسائی لخت جگر کہاں
    اے وائے گر نگاہ نہ ہو آشنائے گل

    دیوانگاں کا چارہ فروغ بہار ہے
    ہے شاخ گل میں پنجۂ خوباں بجائے گل


    ...