×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen
    Detecting Location...
    NEXT EVENT --:--:--
    SEHRI --:--
    IFTAR --:--
    📅 View Full Calendar

    دکھ نوشتہ ہے تو آندھی کو لکھا آہستہ

    دکھ نوشتہ ہے تو آندھی کو لکھا آہستہ
    اے خدا اب کے چلے زرد ہوا آہستہ آہستہ

    خواب جل جائیں مری چشم تمنا بجھ جائے
    بس ہتھیلی سے اڑے رنگ حنا آہستہ

    زخم ہی کھولنے آئی ہے تو عجلت کیسی
    چھو مرے جسم کو اے باد صبا آہستہ

    ٹوٹنے اور بکھرنے کا کوئی موسم ہو
    پھول کی ایک دعا موج ہوا آہستہ

    جانتی ہوں کہ بچھڑنا تری مجبوری ہے
    پر مری جان ملے مجھ کو سزا آہستہ

    نیند پر جال سے پڑنے لگے آوازوں کے
    اور پھر ہونے لگی تیری صدا آہستہ

    مری چاہت میں بھی اب سوچ کا رنگ آنے لگا
    اور ترا پیار بھی شدت میں ہوا آہستہ

    رات جب پھول کے رخسار پہ دھیرے سے جھکی
    چاند نے جھک کے کہا اور ذرا آہستہ


    ...