×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen
    Detecting Location...
    NEXT EVENT --:--:--
    SEHRI --:--
    IFTAR --:--
    📅 View Full Calendar

    سکھ سے بھی تو دوستی کبھی ہو

    اپنی ہی صدا سنوں کہاں تک
    جنگل کی ہوا رہوں کہاں تک

    دم گھٹتا ہے گھر میں حبس وہ ہے
    خوشبو کے لئے رکوں کہاں تک

    ہر بار ہوا نہ ہوگی در پر
    ہر بار مگر اٹھوں کہاں تک

    پھر آ کے ہوائیں کھول دیں گی
    زخم اپنے رفو کروں کہاں تک

    ساحل پہ سمندروں سے بچ کر
    میں نام ترا لکھوں کہاں تک

    تنہائی کا ایک ایک لمحہ
    ہنگاموں سے قرض لوں کہاں تک

    سکھ سے بھی تو دوستی کبھی ہو
    دکھ سے ہی گلے ملوں کہاں تک

    گر لمس نہیں تو لفظ ہی بھیج
    میں تجھ سے جدا رہوں کہاں تک

    منسوب ہو ہر کرن کسی سے
    اپنے ہی لیے جلوں کہاں تک

    آنچل مرے بھر کے پھٹ رہے ہیں
    پھول اس کے لئے چنوں کہاں تک


    ...