کیونکر اس بت سے رکھوں جان عزیز کیونکر اس بت سے رکھوں جان عزیزکیا نہیں ہے مجھے ایمان عزیزدل سے نکلا پہ نہ نکلا دل سےہے ترے تیر کا پیکان عزیزتاب لائے ہی بنے گی غالبؔواقعہ سخت ہے اور جان عزیز Copy Join the conversation
Join the conversation