×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

ہوا کا شور تو آج اور بھی زیادہ ہے

ہوا کا شور تو آج اور بھی زیادہ ہے
چراغاں آنکھ میں کر لو اگر ارادہ ہے

میں رہ گزر میں کہیں پر بکھر ہی جاؤں گا
یہ میری روح پہ مٹی کا اک لبادہ ہے

بہت دنوں کی مسافت کے بعد مجھ پہ کھلا
کہ چل رہا ہوں میں جس پر اجاڑ جادہ ہے

یہ تیرا ظرف نہیں تنگ و تار گھاٹی نہیں
یہ میرے دل کا ہے رستہ بھی اور کشادہ ہے

اسے تو کچھ نہیں معلوم دنیا داری کا
مزاج کا ترا احمدؔ بھی کتنا سادہ ہے
...
0:00
0:00
0:00