جتنی لکھی تھی مقدر میں ہم اتنی پی چکے
جتنی لکھی تھی مقدر میں ہم اتنی پی چکے
اب تو دن مرنے کے ہیں جینا تھا جتنا جی چکے
اے زمانے اب نہ آنا ہم کو سمجھانے کبھی
اپنی کہہ لی سب کی سن لی ہونٹھ اب تو سی چکے
گھر سے بے گھر ہو گئے اب گھر کی یاد آئے تو کیوں
زندگی پیچھا نہ کر ہم جی چکے ہم جی چکے
اب ہماری خشک آنکھوں میں نہ کچھ ڈھونڈھے کوئی
اشک جتنے ان میں تھے ہم پی چکے ہم پی چکے
Join the conversation