پھر یوں ہوا کہ آنکھ میں تنکا جھلس گیا
پھر یوں ہوا کہ آنکھ میں تنکا جھلس گیا
بادل کی طرح خواب کا شعلہ برس گیا
پھر یوں ہوا کہ چھپکلی بیٹھی ہتھیلی پر
اور ایک سانپ اپنی ہی کنڈلی میں پھنس گیا
پھر یوں ہوا کہ ابر کا سایا نچوڑ کر
موسم مرے خیال کی شاخوں کو ڈس گیا
پھر یوں ہوا کہ چاندنی نے بد دعائیں دیں
اور ایک پیڑ اپنے ہی سائے میں دھنس گیا
پھر یوں ہوا کہ میرے گریباں کو تھام کر
دامن کے ساتھ باغچے کا خاک و خس گیا
پھر یوں ہوا کہ نغمۂ ہنگامہ خیز کی
زنجیر توڑنے کو میں لے کر جرس گیا
پھر یوں ہوا کہ تیری تمنا کے جوش میں
اے شاخ گرد ہاتھ سے میرے قفس گیا
پھر یوں ہوا کہ بھول گئے لوگ جست و خیز
ہم کیا گئے کہ دور ہوا و ہوس گیا
پھر یوں ہوا کہ آئنے مخلوق کھا گئے
اور آئنوں کے عکس میں اک شہر بس گیا
Join the conversation