×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

پھر یوں ہوا کہ آنکھ میں تنکا جھلس گیا

پھر یوں ہوا کہ آنکھ میں تنکا جھلس گیا
بادل کی طرح خواب کا شعلہ برس گیا

پھر یوں ہوا کہ چھپکلی بیٹھی ہتھیلی پر
اور ایک سانپ اپنی ہی کنڈلی میں پھنس گیا

پھر یوں ہوا کہ ابر کا سایا نچوڑ کر
موسم مرے خیال کی شاخوں کو ڈس گیا

پھر یوں ہوا کہ چاندنی نے بد دعائیں دیں
اور ایک پیڑ اپنے ہی سائے میں دھنس گیا

پھر یوں ہوا کہ میرے گریباں کو تھام کر
دامن کے ساتھ باغچے کا خاک و خس گیا

پھر یوں ہوا کہ نغمۂ ہنگامہ خیز کی
زنجیر توڑنے کو میں لے کر جرس گیا

پھر یوں ہوا کہ تیری تمنا کے جوش میں
اے شاخ گرد ہاتھ سے میرے قفس گیا

پھر یوں ہوا کہ بھول گئے لوگ جست و خیز
ہم کیا گئے کہ دور ہوا‌ و ہوس گیا

پھر یوں ہوا کہ آئنے مخلوق کھا گئے
اور آئنوں کے عکس میں اک شہر بس گیا
...
0:00
0:00
0:00