عشق نے خوب انتقام لیا
عشق نے خوب انتقام لیا
بے وفا سے وفا کا کام لیا
عشق شاید اسی کو کہتے ہیں
آنکھ نے آنکھ کا سلام لیا
اور کوئی علاج تھا ہی نہیں
ہار کر دل نے تیرا نام لیا
عمر بھر دشمنوں کے ساتھ رہے
آگ سے روشنی کا کام لیا
گرنے والا ہی تھا شجر سے میں
کچھ پرندوں نے مجھ کو تھام لیا
Join the conversation