×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

نہتے آدمی پہ بڑھ کے خنجر تان لیتی ہے

نہتے آدمی پہ بڑھ کے خنجر تان لیتی ہے
محبت میں نہ پڑ جانا محبت جان لیتی ہے

اسے خاموش دیکھوں تو سنائی کچھ نہیں دیتا
دکھائی کچھ نہیں دیتا نظر جب کان لیتی ہے

اداسی آشنا ہے اس قدر آہٹ سے میری اب
جہاں سے بھی گزرتا ہوں مجھے پہچان لیتی ہے

خوشی تو دے ہی دیتی ہے تری دنیا مجھے لا کر
مگر بدلے میں وہ اس کے مرا ایمان لیتی ہے

بس اک لمحہ لگاتی ہے خوشی آ کر گزرنے میں
اداسی آئے تو صدیوں کی مٹی چھان لیتی ہے

برابر بانٹ دیتی ہے وہ سانسیں خاک زادوں میں
نہ جانے زندگی کس کی دکاں سے بھان لیتی ہے

اسی کے ساتھ چلتی ہے یہ منزل پر پہنچنے تک
یہ راہ غم جسے اپنا مسافر جان لیتی ہے

وہ ہر مچھلی جو مچھلی گھر کی پیداوار ہو صاحب
وہ مچھلی گھر کو ہی اپنا سمندر مان لیتی ہے

ہم اس کے ہاتھ پہ رکھ دیں زمین و آسماں لا کر
مگر وہ ہم فقیروں کا کہاں احسان لیتی ہے

سر مقتل بکھر جاتے ہیں اس میں ڈوبنے والے
محبت ہر قدم پر خون کا تاوان لیتی ہے

اگر بجھنے سے بچنا ہے تو لو سے لو جلاؤ زیبؔ
ہوا جلتے چراغوں سے یہی پیمان لیتی ہے
...
0:00
0:00
0:00