آرزو تم ہو مدعا تم ہو
آرزو تم ہو مدعا تم ہو
کیا زباں سے کہوں کہ کیا تم ہو
کیا ضرورت ہے آئنے کی مجھے
میری ہستی کا آئنہ تم ہو
دل ابھی تک نہیں سمجھ پایا
اجنبی ہو کہ آشنا تم ہو
صحن گلشن میں جا کے راز کھلا
چہرۂ گل میں رونما تم ہو
چاند تاروں شفق میں پھولوں میں
رنگ ہو نور ہو صبا تم ہو
مجھ کو طوفان غم کا خوف نہیں
میری کشتی کے ناخدا تم ہو
تم سے قائم ہے زندگی نغمیؔ
دل کی دھڑکن کی ہر صدا تم ہو
Join the conversation