×
Faster & lighter experience

Baad mein install karein

Menu dabayein
📲
Add to Home Screen

امید پر ہماری یہ دنیا کھری نہیں

امید پر ہماری یہ دنیا کھری نہیں
پھر بھی تو اس کو پانے کی خواہش مری نہیں

بے وجہ گل رخوں سے مری بے رخی کہاں
میرے جنون شوق کے قابل پری نہیں

تسکیں ملے بھی دیدۂ حیراں کو کس طرح
شیشہ گری نہیں کہیں جلوہ گری نہیں

بد رنگ سی بہار ہے فصل بہار میں
بشاش دل نہیں ہے طبیعت ہری نہیں

لگتا ہے آج شہر کے حالات ٹھیک ہیں
مسجد وگرنہ کل کی طرح کیوں بھری نہیں

حالانکہ میرے جرم پہ پردے پڑے رہے
دل کی ملامتوں سے مگر میں بری نہیں

دھرتی پہ دکھ رہے ہیں گناہوں کے اب اثر
اعظمؔ کہیں تو خشکی کہیں پر تری نہیں


...
0:00
0:00
0:00